آئینہ

وکی لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

آئِینَہ {آ + ای + نَہ} (فارسی)

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی ماخوذ ہے سب سے پہلے 1649ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔


اسم نکرہ (مذکر - واحد)

واحد غیر ندائی: آئِینے {آ + ای + نے}

جمع: آئِینے {آ + ای + نے}

جمع غیر ندائی: آئِینوں {آ + ای + نوں (و مجہول)}


معانی[ترمیم]

1. قلعی کیا ہوا شیشہ جس کی پشت پر مسالا لگا ہو اور جس میں چیزوں کا عکس نظر آئے، منھ دیکھنے کا شیشہ، مرآت۔

؎ وہ آئینہ تو سنگ ظلم و استبداد نے توڑا

تم اب دیکھو گے جلوہ کیوں کر اپنی خودنمائی کا [1]

2. جس کے وجود یا عمل وغیرہ سے کسی کی خصوصیات ظاہر واضح ہوں، مظہر۔

"یہ ان کے دلی جذبات کا آئینہ ہے۔" [2]

3. صاف، شفاف، روشن، مجلّا۔

؎ پیر فلک سے مانگ کے جاروب کہکشاں

آئینہ کر دیا تھا مکاں مثل لامکاں [3]

4. عیاں، ظاہر، واضح۔

"ظلمت و کدورت اختلاط سے دل شفاف ہو کر آئینہ ہو جائے۔" [4]

5. شیشہ، کاچ۔

"ہر طرف ..... آئینہ تصویر کے لٹکے۔" [5]

متغیّرات[ترمیم]

آیِینَہ {آ + یی + نَہ}

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

a mirror, looking-glass; the kneepan.

مترادفات[ترمیم]

جَہاں نُما دَرپَن شِیشَہ آرْسی حَیران اُجْلا دَرْپَن عَیاں

مرکبات[ترمیم]

آئِینَہ باطِن، آئِینَہ بَنْد، آئِینَہ بِین، آئِینَہ پَرْداز، آئِینَہ جَبِیں، آئِینَہ دان، آئِینَہ دِل، آئِینَہ رَنْگ، آئِینَہ زار، آئِینَہ سِیما، آئِینَہ طَبْع، آئِینَہ گُلْداز، آئِینَۂِ تارِیک، آئِینَۂِ جادُو، آئِینَۂِ قامَت نُما، آئِینَہ بَرْدار، آئِینَہ پوش، آئِینَہ تاب، آئِینَہ جَمال، آئِینَہ خانَہ، آئِینَہ دار، آئِینَہ رُخ، آئِینَہ ساز، آئِینَہ کار، آئِینَہ کِرْدار، آئِینَہ گُداز، آئِینَۂِ اَنْگاری، آئِینَۂِ چِینی، آئِینَۂِ سِکَنْدَر، آئِینَۂِ عَمَل

روزمرہ جات[ترمیم]

آئینہ بنانا

حیران کر دینا، اچنبھے میں ڈال دینا۔

؎ کیا صفائی رخ جاناں کی ہے اللہ اللہ دیکھنے والوں کو آئینہ بنا دیتی ہے [6]

روشن کرنا، چمکانا۔

میں نے اپنے نفس کو آئینہ بنایا۔" [7]

آراستہ کرنا، سجانا؛ صاف ستھرا کرنا۔

سارے چمن کو آئینہ بنا رکھا تھا۔" [8]

آئینہ جڑنا

دیوار یا چوکھٹے وغیرہ میں شیشے یا آئینے کو پیوست کر دینا؛ چمکانا، بہت صاف و شفاف کرنا۔

کیا قلعی کیا ہے گویا در و دیوار میں آئینے جڑ دیے ہیں۔" [9]

آئینہ کرنا

صاف و شفاف کر کے چمکا دینا؛ واضح کر دینا۔

؎ ہم کو حیرت ہے انھیں حسن نے آئینہ کیا وہ ہمیں دیکھتے ہیں اور انھیں ہم دیکھتے ہیں [10]

حیران کر دینا۔

؎ آئینے نے کر دیا آئینہ میرے یار کو دیکھ کر وہ جلوہ اپنا آپ حیراں ہو گیا [11]


آئینہ ہونا

آئینہ کرنا کا فعل لازم ہے۔

سید صاحب نے ایسے ایسے نقشے بنا کر محرروں کو دیے کہ بہ سہولت تمام ایک مہینے میں دفتر آئینہ ہو گیا۔" [12]

آئینے میں بال (آنا | پڑنا)

معمولی صدمے سے آئینے میں ہلکی سی لکیر پڑ جانا۔

؎ رونگٹے کب ہیں ان آئینوں میں ہیں پڑ گئے بال ہاتھ زانو پہ کبھی یار نے دے مارے ہیں [13]

دل میں فرق آنا۔

؎ اصل ان کی ہے کیا وہی ہیں کیا مال آئینے میں دل کے آ گیا بال [14]

تراجم:[ترمیم]

  • انگریزی :looking-glass mirror

حوالہ جات[ترمیم]

    1   ^ ( 1942ء، سنگ و خشت، 38 )
    2   ^ ( 1935ء، چند ہم عصر، 280 )
    3   ^ ( 1912ء، شمیم، مرثیہ، 23 )
    4   ^ ( 1887ء، خیابان آفرینش، 20 )
     5  ^ ( 1847ء، عجائبات فرنگ، 15 )
     6  ^ ( 1921ء، اکبر، کلیات، 11:1 )
     7  ^ ( 1924ء، تذکرۃ الاولیا (ترجمہ)، 168 )
     8  ^ ( 1935ء، چند ہم عصر، 227 )
     9  ^ ( 1924ء، نوراللغات، 219:1 )
     10 ^ ( 1921ء، گلکدہ عزیز، 68 )
     11  ^ ( 1865ء، نسیم دہلوی، دیوان، 110 )
     12  ^ ( 1958ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، 73 )
     13  ^ ( 1853ء، وزیر، دفتر فصاحت، 134 )
     14  ^ ( 1881ء، مثنوی نیرنگ خیال، 160 )