آکاش
وکی لغت سے
سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے اردو میں اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے 1657ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
فہرست |
[ترمیم] متغیّرات
آکاس [آ + کاس]
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی: آکاشوں [آ + کا + شوں (واؤ مجہول)]
1. آسمان، فضائے خالی۔
"یہ دھرتی اور آکاش کس کے سہارے پر قائم ہے۔" ( 1934ء، انجام عیش، 66 )
[ترمیم] انگریزی
space; air, atmosphere; sky, the heavens
[ترمیم] مترادفات
خَلا، گَرْدُوں، اَفْلاک، فَلَک
[ترمیم] فقرات
آکاش باندھیں پتال باندھیں گھر کی ٹٹّی کھلی
ایسے شخص کی نسبت مستعمل جو بڑے بڑے انتظام کرنے کے دعوے کرے اور گھر کا بندوبست نہ کر سکے۔ (نجم الامثال، 23)