اسلام
اِسْلام {اِس + لام} (عربی)
س ل م، اِسْلام
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مسستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1564ء کو "حسن شوقی" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم معرفہ (مذکر - واحد)
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. مسلمانوں کا مذہب، حضرت خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کیا ہوا دین جس کی بنیاد قرآن پاک اور سنت رسول پر ہے۔ (مجازاً) اسلام کے عقائد پر ایمان۔
"بعید نہیں کہ ایک بڑی تعداد انگریزوں کی مشرف بہ اسلام ہو جائے۔"، [1]
2. خدائے تعالیٰ کا دین حق جو عہد حضرت آدم سے آج تک برقرار ہے، خدا اور اس کے انبیا پر ایمان۔
"حضرت لوط نے دعا کی کہ بلا ابر پانی برسنے لگا سو بعض اسلام لائے اور بعضے منکر ہوئے۔"، [2]
3. { مجازا } مسلم، مسلمان۔
؎ یاد ہوں گے تجھ کو اے اسلام شاید وہ بھی دن
جب ترے ہاں عہد خود نینی و خود رائی نہ تھا، [3]
4. { تصوف } ریاضیات شاقہ اور کسب اور نفس کشی اور ذکر اور شغل اور مراقبہ۔
(مصباح التعرف لارباب التصوف، 33)
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
the Muhammadan religion; orthodoxy (according to Muhammadan)
[ترمیم] مترادفات
اِطاعَت