حکومت
حُکُومَت {حُکُو + مَت} (عربی)
ح ک م، حُکُومَت
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1611ء کو قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
جمع: حُکُومَتیں {حُکُو + مَتیں (ی مجہول)}
جمع غیر ندائی: حُکُومَتوں {حُکُو + مَتوں (واؤ مجہول)}
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. فرد یا افراد پر مشتعمل جماعت یا ادارہ جس کے ہاتھ میں امور ممللکت کی باگ ڈور ہو، وزرا کی کابینہ، وزارتیں اور ان کے ذیلی محکمے، گورنمنٹ، سلطنت۔
"حکومت نے سیاچن کے مسئلہ کا بھی سختی سے نوٹس لیا ہے"، [1]
2. حکمرانی، فرما نروائی، اقتدار۔
"قرآن حکیم ایسی نعمت ہے کہ اگر مسلمان اس کی ہدایت پر عمل کریں تو روئے زمین کی حکومت انہیں مل جائے۔"، [2]
3. قدرت، اختیار، تسلط۔
"بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پنڈت دیا شنکر نسیم زبان پر اتنی حکومت نہیں رکھتے کہ ہر ایسے مضمون کو جو خیال میں آئے ادا کرتے جائیں۔"، [3]
4. سختی، جبر۔
"امجد ۔ چلتے ہیں۔ بھوک کے مارے دم نکل گیا، اب آئی ہیں تو یہ حکومت۔"، [4]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
judicial authority; jurisdiction, authority, power, sway, dominion, rule, sovereignty, government
[ترمیم] مترادفات
گَوَرْنْمِنْٹ، قَلَم رَو، حُکْمْرانی، سَلْطَنَت، بالادَسْتی، رِیاسَت، تَسَلُّط، سِیادَت، عَمَل دَخَل، غَلْبَہ، سِیاسَت، راج، دَولَت، عَہْد، گَدّی، مُلْک، سَرْکار، شاہی،
[ترمیم] مرکبات
حُکُومَتِ جُمْہُوری، حُکُومَتِ خودمُختْاری، حُکُومَت دار، حُکُومَتِ دَولَتی، حُکُومَتِ شَخْصی، حُکُومَتِ شُرَفا، حُکُومَتِ عَسکَری، حُکُومَتِ نَوعی
[ترمیم] حوالہ جات
- ↑ ( 1986ء، جنگ، کراچی، 4جون، 1 )
- ↑ ( 1986ء، جنگ، کراچی، 4 جون )
- ↑ ( 1905ء، معرکہ چکبست و شرر، 58 )
- ↑ ( 1900ء، ذات شریف، 20 )