حیوان
حَیوان {حَے (ی لین) + وان} (عربی)
ح ی و، حَیوان
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1564ء کو حسن شوقی کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مذکر - واحد)
جمع: حَیوانات {حَے (ی لین) + وا + نات}
جمع غیر ندائی: حَیوانوں {حَے (ی لین) + وا + نوں (واؤ مجہول)}
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. جاندار، انسان کے علاوہ وہ جان دار مخلوق جس میں قوۃ حس اور ارادی حرکت ہو، جانور۔
؎ پاپ ہے نزدیک میرے ہتھیا حیوان کی
حلق انسان پر چھری لیکن چلا لیتا ہوں میں، [1]
2. وہ روایتی پانی جس کی نسبت کہا گیا ہے اس کا ایک قطرہ پینے کے بعد انسان امر ہو جاتاہے (یہ پانی چشمۂ ظلمات میں بتایا گیا ہے، کہتے ہیں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر نے یہ پانی پی کر عمر ابدحاصل کی، لیکن سکندر اس کی تلاش میں بحر ظلمات تک گیا تو بے نیل حرام، واپس آیا)آب بقاء آب حیواں۔
؎ خضر کی زیست کو حیواں دیا الیاس کو بحر
ڈوب مرنے کو ہمیں چاہ زنخداں چھوڑا، [2]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
an animal, a beast, brute
صفت ذاتی [3]
جمع: حیوانات {حَے (ی لین) + وا + نات}
جمع غیر ندائی: حَیوانوں {حَے (ی لین) + وا + نوں (و مجہول)}
[ترمیم] معانی
1. وحشی، تہذیب وتمدن اور آداب سے عاری، نادان۔
؎ دیدنی ہے یہ نئی تہذیب کی افسوں گرِی
ہند حیواں بن گیا، انگلینڈ انساں ہو گیا، [4]
[ترمیم] مترادفات
ڈھور، اِنْسان، مُتَنَفِّس، جانْوَر، مَویشی،
[ترمیم] مرکبات
حَیوانُ الْبَذْر، حَیوان آوَری، حَیوان بَذْرَہ، حَیوان پَچھاڑ، حَیوان پَرَسْتی، حَیوان پَرْوَری، حَیوان پوشِش، حَیوان زِیچے، حَیوان صاہِل، حَیوان صِفَت، حَیوانِ ضاحِک، حَیوان گھَر، حَیوانِ مُطْلَق، حَیوانِ ناطِق، حَیوانِ ناہِق