صید

وکی لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

صَید {صَید (ی لین)} (عربی)

ص ی د، صَید

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1707ء کو "کلیاتِ ولی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

فہرست

[ترمیم] معانی

1. شکاری کا کام یام پیشہ، شکار کرنا۔

"شکاری سدھایا ہوا کتا شارع کی نظر میں آلۂ صید ہے۔" [1]

2. وہ جانور جسے شکار کیا جائے۔

"شاعری صید بھی ہے اور صیاد بھی۔"، [2]

3. { مجازا } قیدی، گرفتار، مبتلا، پھنسا ہوا (کسی بھی امر میں)۔

؎ لکھی تھی مری زندگانی میں قید

ہوئی رنج و درد و مصیبت کی صید، [3]

4. { کبوتر بازی } اس امر کو عہد کو دونوں مدِ مقابل سے جو کوئی دوسرے کے کبوتر کو پکڑے گا واپس نہ کرے گا، کبوتر لڑانا۔

؎ صید ہی میں نہ فقط ذبح کا کچھ قصد رہا

صلح بھی ٹھہری تو پھڑکا ہی کے چھوڑا ہم کو [4]

انانیت سے پیدا ہونے والی ناچاقی، اپنی برتری کا غرور۔

"اکھاڑوں کی آپس میں صید تو ہوا ہی کرتی ہے۔" [5]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

game, prey, animal persued, hunting, chase, fished for

[ترمیم] مترادفات

شِکار، نَخْچِیر،

[ترمیم] مرکبات

صَیدِ حَرَم، صَیدِ زَبُوں

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1906ء، الحقوق والفرائض، 258:3 )
  2. ( 1987ء، فنون، لاہور، نومبر، 209 )
  3. ( 1978ء، ابنِ انشا، دل و حشی، 175 )
  4. ( 1854ء، دیوانِ ذوق، 152 )
  5. ( 1970ء، غبارِ کارواں، 130 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

‘‘http://ur.wiktionary.org/w/index.php?title=صید&oldid=22397’’ مستعادہ منجانب
ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات