ضرور
ضَرُور {ضَرُور} (عربی)
ض ر ر، ضَرُور
عربی زبان میں مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں بطور صفت، متعلق فعل اور اسم مستعمل ہے۔ 1609ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
صفت ذاتی (واحد)
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. وہ بات جس کا ہونا یا کرنا لازم ہو، فرض، واجب، ضروری۔
"کیا ضرور تھا کہ نواب مرزا کی خیر خواہی خورشید مرزا پر ظاہر ہو۔"، [1]
2. مطلوب، درکار۔
؎ مرتا ہے غیر کس لیے کٹتا ہے یار کیوں
حاضر ہیں جان و دل جو کسی کو ضرور ہوں، [2]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
Necessary, needful, requisite, expedient; urgent; unavoidable, indispensable, essential, imperative
متعلق فعل
[ترمیم] معانی
1. (تاکید کے لیے) لازمی طور پر، یقیناً۔
"ہمارے چچا رہتے تھے، ضرور آپ کے والد صاحب انہیں جانتے ہوں گے۔"، [3]
2. { طنزا } ہرگز نہیں، کی جگہ۔
؎ ہنس کے کہنے لگی یہ وہ مفرور
ایسے فقروں میں آگئی میں ضرور، [4]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
urgently; certainly, assuredly, of course; without fail; absolutely; peremptorily
[ترمیم] معانی
1. احتیاج، حاجت، ضرورت۔
؎ کیا یہ اوس کی سخاوت نے سب کو مستغنی
نہیں کسی کی کسی کو ضرورت عالم میں، [6]
[ترمیم] مترادفات
واجِب، لازِم، فَرْض، اَہَم، یقیناً،
[ترمیم] مرکبات
ضُرُورْ بِاالضُّرُور، ضَرْور بالضَّرُور، ضَرُور ضَرُور
[ترمیم] حوالہ جات
- ↑ ( 1924ء، اختری بیگم، 110 )
- ↑ ( 1846ء، آتش، کلیات، 101 )
- ↑ ( 1974ء، ہمہ یاراں دوزخ، 290 )
- ↑ ( 1871ء، شوق لکھنوی، فریب عشق، 29 )
- ↑ ( مؤنث - واحد )
- ↑ ( 1879ء، دیوانِ عیش دہلوی، 41 )