طاقت
طاقَت {طا + قَت} (عربی)
عربی، طاقَت
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ 1599ء کو "کتاب نورس" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم کیفیت (مؤنث - واحد)
جمع: طاقَتیں {طا + قَتیں (ی مجہول)}
جمع غیر ندائی: طاقَتوں {طا + قَتوں (و مجہول)}
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. قوت، توانائی، بل۔
"کسی عامل کی طاقت کا اندازہ اس کے کام کرنے کی شرح سے کیا جا سکتا ہے۔"، [1]
2. کسی کام کو کرنے کی قدرت، برداشت، قوت۔
"نانا تمہارا بیمار ہے اور بدلہ دینے مے لاچار، طاقت تازیانے کی نہیں رکھتا۔"، [2]
3. مجال، تاب، جرأت۔
"جس دل میں یہ طاقت ہو اس کی صلاحیتوں کی حد نہیں ہوتی۔"، [3]
4. قابلیت، صلاحیت، لیاقت، استعداد۔
"ہر ایک فرد عقل، طاقت وجاہت بلکہ شعور تک میں بھی برابر نہیں ہوتا۔"، [4]
5. بساط، حیثیت، ظرف۔
؎ یہاں طاقت نطق پاتا نہیں
کہ کوزے میں دریا سماتا نہیں، [5]
6. کرشمہ، اعجاز، کرامات۔
؎ شراب ناب کو دیکھا ہے شہد و شبر بن جاتے
نہاں ہیں طاقتیں کیا کیا ہر اک اللہ والے میں، [6]
7. موثر ہونا، تاثیر، اثر کرنے کی قدرت یا صلاحیت۔
"میں نے لکھا تھا کہ دوائی کی طاقت ذرا زیادہ کر دی جائے تو شاید فائدہ ہو۔"، [7]
8. اقتدار، حکومت، اختیار؛ حریف، فریق۔
"ملکی قانون کا دار و مدار طاقت پر ہے اخلاقیات پر نہیں۔" [8]
(دشمن سے) مقابلے کا سامان، اسلحہ اور فوج۔
"جتنے آدمی پہلے میرے ہمراہ تھے اتنے ہی اور دو تاکہ اگر وہ مجھ سے لڑنا چاہیں تو میرے پاس کافی طاقت موجود ہو۔" [9]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
Strength, power, force, patience, ability
[ترمیم] مترادفات
کَرارا، قُدْرَت، شَکْتی، تَمْکِین، حَوصَلَہ، تَوانائی، قُوَّت، زور، صَلابَت، تَقْوِیَت، ہِمَّت، مَجال، سَکَت، تاؤ، کَسَیلاپَن، شَوکَت، کَس، اِسْتِطاعَت، راج، تَحْکِیم،
[ترمیم] مرکبات
طاقَت آزْمائی، طاقَتِ دِیدار، طاقَت طَلَب، طاقَتِ پَرْواز، طاقَت دِہ، طاقَت وَر
[ترمیم] حوالہ جات
- ↑ ( 1984ء، مبادیاتِ طبیعیات، 104 )
- ↑ ( 1732ء، کربل کتھا، 63 )
- ↑ ( 1984ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، 172 )
- ↑ ( 1984ء، مقاصد و مسائل پاکستان، 124 )
- ↑ ( 1872ء، محامدِ خاتم النبین، 2 )
- ↑ ( 1932ء، ریاض رضوان، 177 )
- ↑ ( 1934ء، مکاتیب اقبال، 310:2 )
- ↑ ( 1984ء، مقاصد و مسائل پاکستان، 141 )
- ↑ ( 1965ء، خلافتِ بنوامیہ، 40:1 )