طلاق

وکی لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

طَلاق {طَلاق} (عربی)

ط ل ق، طَلاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1803ء کو "گنج خوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ (مؤنث - واحد)

جمع: طَلاقیں {طَلا + قیں (ی مجہول)}

جمع غیر ندائی: طَلاقوں {طَلا + قوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. { فقہ } دو عادلوں کے حضور مجلس واحد میں اپنی منکوحہ کو قید نکاح سے آزاد کرنا، قید نکاح سے آزادی و رستگاری۔

"اس منشور پر عمل در آمد کیا گیا تو ہندو عورتوں کو بھی مسلمان خواتین کی طرح طلاق آسانی سے حاصل ہو جائے گی۔" [1]

دست برداری، ترک۔

"صوفی وہ ہے کہ تین طلاق سے موصوف ہوئے۔" [2]

کسی چیز کو چھوڑنے کا عہد، شرط۔

"ہمارے بزرگوں نے طلاق لکھ دی ہے کہ جب تک چتور گڑھ کو فتح نہ کرلیں تب تک بروز شادی سیدھی چار پائی پر نہ سوئیں۔" [3]

2. انکار؛ تردید؛ آزادگی؛ روانی، کشادگی۔

(ماخوذ: پلیٹس؛ فیروزاللغات)

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

Divorce, repudiation

[ترمیم] مترادفات

آزادی، چھُٹْکارا، نِجات، فَراخی،

[ترمیم] مرکبات

طَلاق بائِن، طَلاقِ بَتَّہ، طَلاقِ رَجْعی، طَلاقِ سُنَّت، طَلاقِ اَحْسَن، طَلاقِ بِدْعَت، طَلاقِ جَبْری، طَلاقِ حَسَن، طَلاقِ قَبْلَ الدُّخُول، طَلاق نامَہ

[ترمیم] روزمرہ جات

طلاق دینا 
منکوحہ عوت کو چھوڑ دینا؛ زوجیت سے خارج کرنا۔

"انجینئر کے ساتھ کوئی گڑبڑ کی تو سمجھ لینا کھڑے کھڑے طلاق دے دوں گا"، [4]

چھوڑ دینا، دست بردار ہونا، ترک کرنا۔

؎ غمگیں تو طلاق دے دو عالم کو صباح اور شام کو درخت رز سے کر لینا نکاح، [5]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1982ء، آتش چنار، 301 )
  2. ( 1849ء، دستورالعمل انگریزی، 28 )
  3. ( 1880ء، فسانہ آزادی، 567:3 )
  4. ( 1978ء، جانگلوس، 255۔ )
  5. ( 1839ء، مکاشفات الاسرار، 70۔ )

[ترمیم] مزید دیکھیں

‘‘http://ur.wiktionary.org/w/index.php?title=طلاق&oldid=23090’’ مستعادہ منجانب
ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات