طوفان

وکی لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

طُوفان {طُو + فان} (عربی)

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم اور گا ہے بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے 1564ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر)

جمع غیر ندائی: طُوفانوں {طُو + فا + نوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. سیلاب، طغیانی۔

؎ سلامت جو طوفان سے آگئی ہے

وہ کشتی کنارے سے ٹکرا گئی ہے، [1]

2. بادو باراں کی زیادتی، آندھی یا سنت کی بارش۔

"طوفان بہت شدید ہے اور بستی یہاں سے بہت دور۔"، [2]

3. جوش، زیادتی (کسی چیز یا کیفیت کی)؛ بوچھار (گالیوں اور سوالوں وغیرہ کی)۔

؎ طوفان تنک سمن کی بو میں

سمدور یک آنا کے انجو میں، [3]

4. پڑبونگ، ہنگامہ، شور، شورش۔

"حضرت عثمان کے عہد کا سیاسی طوفان، ان کی شہادت .... جمل کی لڑائی یہ شب چند نوخیز قریشی رئیس زادوں کی بیجا امنگوں کے نتائج تھے۔"، [4]

5. تہمت، بہتان۔

"اس کا بدلہ یہ کہ اتنا بڑا طوفان، عظیم بہتان۔" [5]

جھوٹ، غلط۔

؎ آبرو کہتے ہیں رونے میں اثر درد کے

رونا تیرا مگر سچا نہیں طوفان ہے [6]

6. شریر بچہ، شرارتی بچہ۔ (پلیٹس؛ مہذب اللغات)

7. دھوم، شہرت، کہرام۔

؎ طوفان ہوا ہے جب سوں ترے مکھ کی آب کا

بازار تب سوں سرد ہوا آفتاب کا، [7]

8. اندھیر، ظلم۔

؎ یوں مان لے ایسا کوئی نادان نہیں ہے

تم غیر سے ملتے ہو یہ طوفان نہیں ہے، [8]

9. { کنایۃ } آفت، قہر، بڑی مصیبت۔

؎ زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے، [9]

10. اندھیرا گھپ، تاریکی سخت؛ مرگ عام وبا؛ کارِ عظیم، بڑا کام؛ ناگہانی موت؛ قتل۔

(ماخوذ: مہذب اللغات؛ جامع اللغات)

صفت ذاتی [10]

[ترمیم] معانی

1. نہایت، بے حد۔

؎ قاتل کے لامقابل آنکھوں نے کر دیا دل

اس طفل اشک نے بھی طوفان دلاوری کی، [11]

2. کامل، ماہر؛ آفت کا پرکالہ۔

؎ افترا کرنے میں طوفان ہے وہ شوخ ظریف

تو تیا تازہ کوئی اور نہ مجھ پر باندھے، [12]

[ترمیم] مترادفات

سَیلاب، طُغْیانی، تَلاطُم، آفَت، اِلْزام، بُہْتان،

[ترمیم] مرکبات

طُوفانِ آب، طُوفانِ باد، طُوفانِ بَدتَمیزی، طُوفان خیز، طُوفان زَدَہ، طُوفان میل، طُوفانِ نُوح، طُوفان آزْمائی، طُوفان بَدوش، طُوفانِ بے تَمِیزی، طُوفان و شَیطان

[ترمیم] روزمرہ جات

طوفان اٹھنا 
طوفان اٹھانا کا لازم، سیلاب آنا، پانی کا ہوا کے زور سے اُچھلنا۔

"کہتے ہیں خشک ہونے سے پہلے اس دریا میں قیامت کا طوفان اٹھا تھا۔"، [13]

جوش پر آنا، ہنگامہ پیدا ہونا، فتنہ برپا ہونا۔

"کیسے کیسے طوفان دل میں اٹھتے ہیں۔"، [14]

تہمت لگنا، الزام لگنا۔ (مہذب اللغات)
طوفان مچانا 

شورو غل کرنا، ہنگامہ بپا کرنا۔

"کبھی ٹھنڈے سانس لیتے، کبھی ایک طوفان مچاتے ہیں۔"، [15]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1987ء، ضمیریات، 22 )
  2. ( 1966ء، دلہن کی سیج، 145 )
  3. ( 1700ء، من لگن، 1 )
  4. ( 1923ء، سیرۃ النبی، 648:3 )
  5. ( 1917ء، طوفان حیات، 37 )
  6. ( 1718ء، دیوان آبرو، 79 )
  7. ( 1967ء، اردو، کراچی، جنوری، 48 )
  8. ( 1851ء، مومن (شعلۂ جوالہ، 772:2) )
  9. ( 1784ء، درد، دیوان، 87 )
  10. (واحد )
  11. ( 1809ء، جرأت، دیوان، 499 )
  12. ( 1843ء، دیوان رند، 289:2 )
  13. ( 1984ء، چولستان، 21 )
  14. ( 1980ء، ذجلہ، 182 )
  15. ( 1894ء، تعلیم الاخلاق، 103 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات