آشفتہ

ویکی لغت سے
Jump to navigation Jump to search

آشُفْتَہ {آ + شُف + تَہ} (فارسی)

آشُفْتَن آشُفْتَہ

فارسی مصدر آشفتن سے علامت مصدرن گرا کر ہ بطور لاحقۂ حالیہ تمام لگانے سے آشفتہ بنا۔ فارسی میں بطور حالیہ تمام کا صیغہ مستعمل ہے اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے 1739ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی (واحد)

جمع: آشُفْتَگان {آ + شُف + تَگان}

معانی[ترمیم]

پریشان، حیران، سراسیمہ۔

؎ سراسیمہ پریشاں مضطرب آشفتہ و حیراں

مرا قاصد تو آیا لیکن آیا کس تباہی سے [1]

2. بکھرا ہوا، پراگندہ، تتر بتر۔

؎ چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر

جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبار [2]

3. جو بدنظمی یا بدحالی سے دو چار ہو، ابتر۔

"اس کا حال روز بروز آشفتہ ہوتا گیا۔" [3]

4. فریفتہ، عاشق، دیوانہ یا سودائی (کسی کا)۔

؎ ازل کے روز سے آشفتہ گیسوے لیلٰی ہوں

نہ کیونکر سلسلہ ہوتا مجھے زنجیر سے پہلے [4]

5. برہم، غضبناک۔

"نواب نے اس بات پر آشفتہ ہو کے ...... قتل کر ڈالا۔" [5]

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

distracted, disturbed, distressed; disordered; uneasy, wretched, miserable; deeply in love;confused; weary; careworn; perplexed

مترادفات[ترمیم]

بَدحَواس ناگَوار فَریفْتَہ حَیران پَرِیشان

مرکبات[ترمیم]

آشُفْتَہ خاطِر، آشُفْتَہ دِل، آشُفْتَہ دِماغ، آشُفْتَہ رائے، آشُفْتَہ بَیاں، آشُفْتَہ حال، آشُفْتَہ سَر، آشُفْتَہ مِزاج، آشُفْتَہ نَوا

رومن[ترمیم]

Aashuftah

حوالہ جات[ترمیم]

   1    ^ ( 1782ء، گلزار داغ، 244 )
   2    ^ ( 1938ء، ارمغان حجاز، 222 )
   3    ^ ( 1897ء، تاریخ ہندوستان، 262:5 )
   4    ^ ( 1905ء، دیوان انجم، 161 )
   6    ^ ( 1913ء، حسن کا ڈاکو، 161:2 )