آشیاں
ظاہری ہیئت
آشْیاں {آش + یاں} (فارسی)
فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ 1806ء کو "دیوان اثر" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مذکر - واحد)
واحد غیر ندائی: آشْیانے {آش + یا + نے}
جمع: آشْیانے {آش + یا + نے}
جمع غیر ندائی: آشْیانوں {آش + یا + نوں (واؤ مجہول)}
معانی
[ترمیم]1. گھونسلا، پرند کا گھر جسے وہ تنکوں وغیرہ سے بناتا ہے۔
"دیکھا تو ایک پرانا دھرانا ویرانہ ہے چغد و بوم کا آشیانہ ہے۔" [1]
2. رہنے کا گھر، مسکن، اڈہ، قیام کی جگہ۔
"محکمہ جنگ بدمعاشوں کے لیے ایک عمدہ آشیانہ تھا۔" [2]
متغیّرات
[ترمیم]آشْیانَہ {آشْ + یا + نَہ}
مترادفات
[ترمیم]نَشیمَن مَسکَن زِنْدان
رومن
[ترمیم]
Aashiyan
Aashyanah
تراجم
[ترمیم]
انگریزی : Nest; house; residence
حوالہ جات
[ترمیم]1 ^ ( 1780ء، مرزا مظہر جان جاناں، 305 ) 2 ^ ( 1897ء، سیر پرند، 21 )