آنکھ مچولی
ظاہری ہیئت
آنْکھ مِچَولی {آنْکھ (ن غنہ) + مِچَو (و لین) + لی}
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم آنکھ کے ساتھ سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم مچولی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ 1861ء میں واجد علی شاہ کے "کلیات اختر" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
معانی
[ترمیم]بچوں کا ایک کھیل (جسمیں ایک بچے کی آنکھیں بند کر کے یا بند کروا کے سب بچے چھپ جاتے ہیں۔ پھر وہ آنکھیں کھول کے ساتھیوں کو ڈھونڈتا پھرتا ہے اور جسے پا کر چھو لیتا ہے وہ اس کی جگہ چور بن جاتا ہے)۔
"مصنف اور تبصرہ نگار کے درمیاں آنکھ مچولی شروع ہوئی۔" [1]
متغیّرات
[ترمیم]آنْکھ مِچَوَّل {آنْکھ (ن مغنونہ) + مِچَوْ + وَل}
رومن
[ترمیم]Aankh micholi
تراجم
[ترمیم]
انگریزی : Blind man’s buff; be-peep; hide and seek
حوالہ جات
[ترمیم]1 ^ ( مقالات ماجد، 1944ء، 304 )