ٹھہرنا

ویکی لغت سے
Jump to navigation Jump to search

ٹھَہَرْنا {ٹھَہَر + نا} (ہندی)

ٹھََہر، ٹھَہَرْنا

ہندی زبان سے ماخوذ اردو میں مستعمل لفظ ٹھہر کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر نا لگنے سے ٹھہرنا بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ 1500ء میں "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

متغیّرات


ٹھَیرْنا {ٹھََیر + نا} ٹَہَرنا {ٹَہَر + نا}

فعل لازم

معانی[ترمیم]

1. رکنا، تھمنا، قیام کرنا، کھڑا رہنا۔

؎ ٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے

بن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے [1]

برقرار رہنا، قائم رہنا۔

؎ ہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا

چراغ جل نہ سکا زیرآسماں اپنا [2]

ٹکنا، جمنا، قائم ہونا (نظر وغیرہ کا)۔

؎ عرصۂ رزم میں پر کالۂ آتش ہے تو

آنکھ کیا ٹھہرے کہ صد مایۂ تابش ہے تو [3]

2. ثابت قدم رہنا، مقابلہ کرنا، تاب لانا۔

"اس کے سامنے بھی کسی کو ٹھیرنے کی قوت اور لڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔"، [4]

3. ٹکنا، ساتھ دینا۔

؎ خزاں میں پھول سے پتے جدا ہوتے ہوئے دیکھے

ہزار احباب ہوں کوئی دم مشکل نہ ٹھیرے گا، [5]

4. (پانی یا کسی مائع کی سطح پر) رکنا، تیرنا، قائم رہنا۔

"توحید کے دریا میں ٹھیرنا، ذکر خفی کے محل میں .... نیند لینا۔"، [6]

5. ٹھننا، منصوبہ بننا۔

؎ ٹھیری ہے کہ ٹھیرائیں گے زنجیر سے دل کو

پر برہمی زلف کا سودا نہ کریں گے، [7]

6. قائم ہونا، منجمد ہونا، بیٹھنا۔

؎ یہ پارہ اور وہ بجلی یہ کیا ٹہرے وہ کیا ٹھہرے

نہ دل ٹہرے نہ پہلو میں ہمارے دل ربا ٹھہرے، [8]

7. فروکش ہونا، مقیم ہونا، اترنا۔

؎ ملتے نہیں مکان ٹھہرنے کو بھی یہاں

یہ کال پڑ گیا ہے جگہ کا کہ الاماں، [9]

8. (شادی کی تاریخ) مقرر ہونا، (شادی) قرار پانا۔

"رکمنی کی شادی سپال سے ٹھیری تھی۔"، [10]

9. طے ہونا، تجویز ہونا۔

؎ یہ ٹھہری کہ آپس میں مل جائیے

سیاسی کمیٹی میں پل جائیے، [11]

10. بہ امر مجبوری کسی کام کے کرنے کا ارادہ کر لینا، طے پانا۔

"بکری کی میگنیوں سے کیا پیٹ بھرے گا .... جو لید ہی کھانی ٹھیری تو ہاتھی کی کیوں نہ کھائی جائے۔"، [12]

11. قیمت چکنا، بھاؤ طے پانا، مقرر ہونا (قیمت بھاؤ وغیرہ کے ساتھ)۔

؎ لائے گا کعبے سے تو مفت ثواب اے زاہد

حصہ پہلے سے ٹھہر جائے یہیں یاروں کا، [13]

12. دیر لگانا، تاخیر کرنا۔

"آپ راستے میں ہاں ٹھیر رہے تھے۔"، [14]

13. دیرپا ہونا، مضبوط ہونا، دیر تک کام دینا۔

"سنگین عمارتیں کچھ ٹھیریں مگر آدھی رات تک وہ بھی چھلنی تھیں۔"، [15]

14. تامل کرنا، توقف کرنا، صبر کرنا۔

؎ صیاد مجھ کو آپ اسیری کا شوق ہے

اتنا ٹھہر کہ ختم ہو موسم بہار کا، [16]

15. قرار پکڑنا (نطفہ وغیرہ کے ساتھ)۔

"ایک حمل ٹھیرے بعد دوسرا حمل ٹھیرنے کے بیان میں۔"، [17]

16. قرار پانا۔

"یہ ٹھہریں زبان کی محقق اور تم ٹھہرے جگت گرو۔"، [18]

17. تہ نشین ہونا، نیچے بیٹھنا۔ (نوراللغات؛ جامع اللغات)

18. تسلی ہونا، اضطراب کم ہونا، بیقراری دور ہونا (دل وغیرہ کے ساتھ)۔

؎ ٹھہرا نہ جی، مجھی کو ٹھکانے لگا دیا

اے دینے والے تو نے دیا بھی تو کیا دیا، [19]

19. (کوئی کام کرتے کرتے) رک جانا۔

؎ ہائے میں ذبح بھی ہونے کے نہ قابل ٹھہرا

کیوں رکا ہاتھ یہ کیوں خنجر قاتل ٹھہرا، [20]

20. (کسی کام سے) باز رہنا۔

"وہ نفاس کے لہو کے سبب تینتیس دن ٹھہری رہے۔"، [21]

21. (چراغ وغیرہ) جلتا رہنا۔

؎ چلا کی رات دن آہوں کی آندھی

چراغ داغ بھی اے دل نہ ٹھیرا، [22]

22. ہونا۔

؎ دل مرا لے کے وہ کس ناز سے فرماتے ہیں

اب تمھارا تو نہیں مال ہمارا ٹھیرا، [23]

23. طبیعت کا بحال ہونا، افاقہ ہونا، سنبھلنا۔

"میں نے کل رات سے ٹھنڈا پانی بالکل نہیں پیا اور غذا محض برائے نام کھائی ہے اس سے طبیعت بہت ٹھیری ہوئی ہے۔"، [24]

24. خرچ ہونے سے بچ رہنا، صرف نہ ہونا۔

؎ قرار برکف آزاد گاں نہ گیر دمال

ہمارے ہاتھ میں اے بحر کیا درم ٹھرے، [25]

25. { قانون } گواہ کا اپنے اظہار میں قائم رہنا، گواہ نہ ٹوٹنا۔

"یہ گواح جرح میں نہیں ٹھیرے گا۔"، [26]

26. نوبت آنا، طے ہونا، اتفاق ہونا۔

"بعید نہیں کہ کسی دن بلا اطلاع السلام علیکم کی ٹھیرے۔"، [27]

27. کسی رقیق شے کا تھوڑی دیر ساکت رہنے سے گاڑھا ہو جانا، قوام بندھنا؛ گوندھے ہوئے آٹے وغیرہ کا لوچدار ہونا۔

"گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے آٹا گوندھ کر رکھ دینا چاہیے تاکہ آٹا ٹھیر جائے۔"، [28]

28. طے پانا، فیصلہ ہونا۔

؎ کبھی ہم نے اگر قد بلند یار سے ناپا

یہی اونچا رہا سرو چمن دو ہاتھ کم ٹہرا، [29]

29. بند ہونا، سلسلہ ختم ہونا۔

؎ ٹھیرا نہیں ہے نغمۂ صبح ازل ہنوز

چھیڑا ہے آپ مطرب فطرت نے ساز عشق، [30]

30. منحصر ہونا، نر بھر ہونا۔

؎ اگر ٹھہرے گا سر کے چیرنے پر یار کا ملنا

تو لاکھوں کو ہکن کی طرح سر کو چیر ڈالیں گے، [31]

31. بچنا، باقی رہنا۔

؎ یہی ہے لوٹ تو دست جنوں کے ہاتھوں سے

نہ ایک میرے گریباں کا تار ٹھہرے گا، [32]

32. متعین ہونا۔

"اس حساب سے اس کی عمر 65 سال کی ٹھہرتی ہے۔"، [33]

فعل کی حالتیں

ٹھَہَرْنا {ٹھَہَر +نا}ٹھَہَرْنے {ٹھَہَر +نے} ،

ٹھَہَرْنی {ٹھَہَر +نی}ٹھَہَرْتا {ٹھَہَر +تا} ،

ٹھَہَرْتے {ٹھَہَر +تے}ٹھَہَرْتی {ٹھَہَر +تی} ،

ٹھَہَرْتِیں {ٹھَہَر +تِیں}ٹھَہْرا {ٹھَہ+را} ،

ٹھَہْرے {ٹھَہ+رے}ٹھَہْری {ٹھَہ+ری} ،

ٹھَہْرِیں {ٹھَہ+رِیں}ٹھَہْرا {ٹھَہ+را} ،

ٹھَہْرے {ٹھَہ+رے}ٹھَہْریں {ٹھَہ+ریں(یائے مجہول)} ،

ٹھَہْرُوں {ٹھَہ+رُوں}ٹھَہَر {ٹھَہَر} ،

ٹھَہْرو {ٹھَہ+رو(واؤ مجہول)}ٹھَہَرْیو {ٹھَہَر+یو(واؤ مجہول)} ،

ٹھَہَرْیے {ٹھَہَر+یے}

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

to stand; to stand still; to stand firm; to be stationary; to be fixed; to be stopped; to be congealed, be frozen; to stop, rest, pause, cease, desist; to stay, remain, abide, wait, tarry; to last, endure; to be ascertained, be proved, be established; to be settled, be agreed upon, be concluded; to be fixed on, be determined, be resolved; to prove to be, to turn out

مترادفات[ترمیم]

اَٹَکْنا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( 1926ء، فغان آرزو، 227 )
  2. ( 1927ء، آیات وجدانی، 99 )
  3. ( 1929ء، مطلع انوار، 52 )
  4. ( 1930ء، اردو گلستاں، 60 )
  5. ( 1836ء، ریاض البحر، 23 )
  6. ( 1500ء، معراج العاشقین، 21 )
  7. ( 1851ء، مومن کلیات، 160 )
  8. ( 1870ء، الماس درخشاں، 282 )
  9. ( 19367، شعاع مہر، 158 )
  10. ( 1947ء، فرحت، مضامین، 218:7 )
  11. ( 1921ء، اکبر، گاندھی نامہ، 28 )
  12. ( 1958ء، شمع خرابات، 92 )
  13. ( 1878ء، گلزار داغ، 4 )
  14. ( 1926ء، نوراللغات )
  15. ( 1907ء، صبح زندگی، 202 )
  16. ( 1915ء، جان سخن، 29 )
  17. ( 1848ء، اصول فن قبالت، 136 )
  18. ( 1954ء، شاید کہ بہار آئی، 7 )
  19. ( 1938ء، سریلی بانسری، 33 )
  20. ( 1903ء، نظم نگاریں، 47 )
  21. ( 1822ء، موسیٰ کی توریت مقدس، 425 )
  22. ( 1857ء، سحر (امان علی)ریاض سحر، 23 )
  23. ( 1902ء، طلسم نوخیز جمشیدی، 930:3 )
  24. ( 1907ء، مکتوبات حالی، 399:2 )
  25. ( 1836ء، ریاض البحر، 274 )
  26. ( 1926ء، نوراللغات )
  27. ( 1921ء، اکبر، خطوط، 28 )
  28. ( 1906ء، نعمت خانہ، 7 )
  29. ( 1863ء، دیوان اسیر، 67:3 )
  30. ( 1941ء، انوار، 38 )
  31. ( 1856ء، کلیات ظفر، 163:4 )
  32. ( 1824ء، مصحفی، دیوان، 8 )
  33. ( 1946ء، شیرانی، مقالات، 117 )