حد
حَد {حَد} (عربی)
ح د د، حَد
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1635ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم کیفیت (مؤنث - واحد)
جمع: حَدیں {حَدیں (ی مجہول)}
جمع استثنائی: حَدُوْد {حَدُوْد}
جمع غیر ندائی: حَدوں {حَدوں (واؤ مجہول)}
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. انتہا، آخر، اختتام۔
2. طرف، کنارہ۔
"رنگوں کی حدود کو ایک دوسری میں اترتے دیکھا تو میں نے انہیں یکجا کر دیا"۔، [2]
3. مجال، طاقت، قدرت۔
توں ہی ارواحِ آدم کا سوجد ہے، [3]
4. "دوچیزوں یا مقامات کے درمیان کی روک، آڑ، دیوار، خط فاصل۔
"ٹیمز کا طاس ....، گویا جنوبی انگلستان کی حد ہے جس کے اوپر وسط انگلستان اور دریائے سیورن کی وادی شروع ہو جاتی ہے"۔، [4]
5. { منطق }وہ تعریف جس میں کسی شے کی حقیقت و ماہیت بیان کرنے کے لیے اس کے دو قسم کے ذاتیات یا اوصاف بیان کیے جائیں، ایک وہ جو اوروں میں بھی پائے جاتے ہوں اور دوسرے وہ جو خاص اور مختص ہوں۔
"کسی شے کی حد (تعریف) اس کی ذات کا بیان ہے"۔، [5]
6. مقررہ مقام یا درجہ، طے شدہ حیثیت یا مرتبہ۔
؎ نخوت کا ذکر تھا نہ کہیں کبر کا تھا نام
مذہب کی حد پہ ایک وہ آقا ہو یا غلام، [6]
7. مقررہ مدت، میعاد۔
"ان بزرگ نے یہ بھی فرمایا کہ اس عمل کی حد تو ایک چلے کی ہے"۔، [7]
8. دائرہ اختیار۔
"دونوں عیسائی حکام کے درمیان حد کی کاروائی جاری تھی"۔، [8]
9. { تصوف } صوفیوں کی زبان میں حد سے مراد خدا اور بندے کے درمیان وہ فصل ہے جو زمان و مکان کی قید کی بنا پر قائم ہے۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ)
10. { منطق } الفاظ جو کسی قضیے کے مبتدا یا خبر ہوں۔
"جس طرح تصور جب الفاظ کا جامہ پہن لے تو حد کہلاتا ہے اسی طرح حکم کو جب الفاظ کا جامہ پہنایا جائے تو وہ قضیہ کہلاتا ہے"۔، [9]
11. قرآن پاک کی اصطلاح میں وہ احکام (امر ونہی) جن کے مطابق مسلمانوں کو عمل کرنا چاہیے۔
"حد کی جمع حدود ہے حدود اللہ کی ترکیب قرآن مجید میں ایک سے زائد مرتبہ آتی ہے"۔، [10]
12. اصول، ضابطے۔
؎ ہر نظر محرمِ جمال کہاں
دید کی کچھ حدیں مقرر ہیں، [11]
13. وہ سزا جو شریعتِ اسلام کے مطابق دی جائے، حد میں سزا مقرر شدہ ہے اور قاضی یا حاکم کی رائے کا اس میں داخل نہیں (تعزیر وہ سزا ہے جس کی تعین قاضی یا حاکم حسب حالاتِ خود کرتا ہے)۔
"قانونی صورتیں کئی ہیں، ان میں ایک نمایاں صورت حد ہے اور دوسری تعزیر"۔، [12]
14. { علم ہندسہ } مہندسین کے نزدیک حد کے معنی ہیں "نہایۃ المقدار" یعنی خط، سطح، جسم تعلیمی میں، جب کسی خط کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو ان کے مابین حد مشترک نقطہ ہو گا اور جب سطح کو تقسیم کیا جائے تو ان کے مابین خط مشترک قرار پائے گا اور جسم تعلیمی میں سطح حد مشترک ہو گی۔ (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ)
15. روانہ ہونے کی جگہ؛ احاطہ، باڑا۔
(فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات)۔
16. دفعۂ قانونی۔ (اردو قانونی ڈکشنری)
17. { علم الافلاک } برج کے ساتھ ملحقہ علاقہ۔
"منجمین ہر برج کو پانچ غیر مساوی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، جن کو آگے کی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر حصہ پانچ سیاروں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا ہے ان میں سے ہر ایک کو حد کہتے ہیں"۔، [13]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
boundary, term, limit, bounds, extreme, extremity; bar, obstruction; the point , or verge (of an event); a restrictive ordinance or statue (of God , respecting things lawful or unlawful); castigations or punishments appointed to be inflicted (agreeably to the laws of Muhammad) for certain crimes
متعلق فعل
[ترمیم] معانی
1. بہت زیادہ، بے انتہا۔
"شہر کے لوگ ان کے گانے کے حد مشتاق تھے"۔، [14]
[ترمیم] مترادفات
کنارا، سَرْحَد، گھیرا، ڈانْڈا، اَخِیر، تَودَہ، پایان، تھاہ، باڈَر،
[ترمیم] مرکبات
حَدِّ اَدَب، حَدْ دَرْجَہ، حَدِّ رَفْتار، حَدبَنْدی، حَدِّ اَصْغَر، حَدِّ اَکْبَر، حَدُّ الثَّلْج، حَدُّ الْجَمْع، حَدُّ الزِّنا، حَدُّ السَّرِقَہ، حَدُّ الشَّرْب، حَدُّ الْعَین، حَدُّ الْقَذْف، حَدِّ بُلُوغ، حَدْ بَنْدی، حَدِّ جُزْئی، حَدِّ جَواب، حَدِّ حَقِیقی، حَدِّ رَسْمی، حَدِّ زِنا، حدِّ سَماعَت، حَدِّ سَماعَت، حَدْ سے باہِر، حَدْ سے بے حَد، حَدْ سے پَرے، حَدْ سے زِیادَہ، حَدْ سے سِوا، حَدِّ شُرْب، حَدِّ شَرْع، حدِّ شَرْعی، حَدِّ طَبْعی، حَدِّ عام، حَدِّ فاصِل، حَدْ کا، حَدِّ کامِل، حَدِّ کَفاف، حَدْ کے اَنْدَر، حَدِّ لَفْظی، حَدِّ مُجَرَّد، حَدِّ مَحْدُود، حَدِّ ناقِص، حَدِّ نِسا، حَدِّ نَظَر، حدِّ نِگاہ، حَدِّ نِگاہ، حَدِّ نِہایَت، حَدِّ وَصْفی، حَدُّالشُّرْب، حَدِّاَوْسَط، حَدبَسْت، حَدِّبَشَر، حَدِّتام، حَدّو حِساب، حَدّو حَصْر
[ترمیم] حوالہ جات
- ↑ ( 1980ء، صد رنگ، 16 )
- ↑ ( 1983ء، سفر مینا، 6 )
- ↑ ( 1665ء، پھول بن، 6 )
- ↑ ( 1934ء، جغرافیۂ عالم، 97:1 )
- ↑ ( 1923ء، مفتاح المنطق، 84:1 )
- ↑ ( 1981ء، شہادت، 124 )
- ↑ ( 1899ء، رویائے صادقہ، 19 )
- ↑ ( 1890ء، تذکرہ الکرام، 87 )
- ↑ ( 1969ء، نفسیات اور ہماری زندگی، 321 )
- ↑ ( 1971ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 952:7 )
- ↑ ( 1979ء، زخم ہنر، 153 )
- ↑ ( 1971ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 952:7 )
- ↑ ( 1971ء، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، 955:7 )
- ↑ ( 1907ء، انتخاب فتنہ، 189 )