حساب
حِساب {حِساب} (عربی)
حسب، حِساب
ثلاثی مزید فیہ کے باب سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں 1582ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مذکر)
جمع: حِسابات {حِسا + بات}
جمع غیر ندائی: حِسابوں {حِسا + بوں (و مجہول)}
فہرست |
[ترمیم] معانی
1. گنتی، شمار، میزان، جوڑ۔
"میں شام کو تین چار گھنٹے دفتر میں لگاتا ..... کچے حساب کی فردیں اپنے حساب سے کیش بک اور کھاتے میں منتقل کرتا"۔، [1]
2. علم ریاضی کی ایک شاخ، علم الحساب، ارتھمیٹک، انگریزی میں Arithmetic۔
"حساب کے پروفیسر چارلس بے بیج نے 1822ء میں ایک ایسی مشین بنائی جو 6 درجے اعشاریہ تک کام کرتی تھی"۔، [2]
3. نرخ، بھاؤ، قیمت۔
"منشی ..... دو روپے فی گائے کے حساب سے گوجروں سے چرائی کی اجرت لے رہا تھا"۔، [3]
4. انداز، سمجھ، رائے، خیال۔
"جمع حدیث پر اختلاف ہوا فقہ کی تدوین ایک دوسرے سے مختلف ہو گئ۔ تاریخ کو اپنے اپنے حساب سے مرتب کیا"۔، [4]
5. مقدار، تناسب، نسبت۔
"قیمے میں کچھ اس حساب سے مسالے ملاتے تھے کہ جوبات ان کے کبابوں میں ہوتی تھی سارے دلی کے کبابیوں کے یہاں نہیں ہوتی تھی"۔، [5]
6. محاسبہ، پوچھ گچھ، احتساب، جزا و سزا کا تعین۔
"اللہ جلدی حساب کرنے والا ہے"۔، [6]
7. فردِ عمل۔
؎ جو چاہیں لکھ لیں کاتب اعمال چار دن
دیکھوں گا روز حشر میں کاغذ حساب کا، [7]
8. لین دین، کھاتہ۔
"قرض ملتا نہیں، بنک میں حساب نہیں"۔، [8]
9. طور، طریقہ، قاعدہ، ڈھنگ۔
؎ یا جوش کو یا خواجہ کو خط لکھتا ہوں دہلی
گو آپ کو معلوم ہے، ہے ان کا حساب اور، [9]
10. معاملہ، تعلق، سلسلہ، ربط، لگاؤ، لگاوٹ۔
؎ نہ سمجھا کبھی پائے اپنا حساب
کہ ہم موج ہیں، بحر ہیں یا حباب، [10]
11. حالت، کیفیت۔
؎ آیا جو موسمِ گل تو یہ حساب ہو گا
ہم ہوں گے یار ہو گا جام شراب ہو گا، [11]
[ترمیم] انگریزی ترجمہ
a cumbering, counting, reckoning, calculation, computation; arithmetic; account, accounts; bill (of charges); rate, price, charge; measure, measurement; proportion; rule, standard; estimation, judgment, opinion; condition, category.
[ترمیم] مترادفات
کھاتا، گوشْوارَہ، مُحاسَبَہ، اَکاؤُنْٹ، رِیاضی، گِنْتی،
[ترمیم] مرکبات
حِساب داں، حِساب سے باہِر، حِسابِ غُبار، حِساب کا دِن، حِسابِ نَقْدی، حِساب نَوِیس، حِساب و کِتاب
[ترمیم] حوالہ جات
- ↑ ( 1983، سفرمینا، 254 )
- ↑ ( 1984ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، 11 )
- ↑ ( 1981ء، سفر در سفر، 28 )
- ↑ ( 1973ء، فرقے اور مسالک، 107 )
- ↑ ( 1962ء، ساقی، جولائی، 49 )
- ↑ ( 1906ء، الحقوق و الفرائض، 77:1 )
- ↑ ( 1846ء، کلیات، آتش،1، 153 )
- ↑ ( 1924ء، خونی راز، 83 )
- ↑ ( 1938ء، کلیات عریاں، 74:2 )
- ↑ ( 1911ء، کلیات اسمائیل، 11 )
- ↑ ( 1854ء، غنچہ آرزو، 5 )