آسی2
ظاہری ہیئت
آسی{آ + سی} (سنسکرت)
آشا آس آسی
سنسکرت زبان میں اصل لفظ آشا ہے لیکن اردو زبان میں اس سے ماخوذ آس بطور اسم مستعمل ہے اور آس کے ساتھ ی بطور لاحقۂ صفت لگانے سے آسی بنا جوکہ بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1679ء میں "دیوان سلطان" میں مستعمل ملتا ہے۔
صفت ذاتی (مذکر - واحد)
جمع ندائی: آسِیو {آ + سِیو (و مجہول)}
جمع غیر ندائی: آسِیوں {آ + سِیوں (واؤ مجہول)}
معانی
[ترمیم]آس رکھنے والا، امیدوار، آس والا۔
؎ پن مجکوں اپس کے پاس رکھنا
آسی کوں نکو نراس رکھنا [1]
مترادفات
[ترمیم]پُرْاُمِّید آس مَنْد
متضادات
[ترمیم]مایُوس
حوالہ جات
[ترمیم]1 ^ ( 1700ء، من لگن، 18 )