استعمال

وکی لغت سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اردو[ترمیم]

لفظ زبان اسم - فعل - حرف مذکر مؤنث جمع
استعمال عربی اسم ( اسم مجرد) استعمال استعمالات

اشتقاقیات[ترمیم]

عمل←عِمْل←اِسْتِعْمال

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

تلفظ[ترمیم]

  • ا س ت ع م ا ل
  • اِس + تِع (کسرہ ت مجہول) + مال
  • اِسْتِعْمال

معانی[ترمیم]

  • عمل میں لانا، برتنا، کلام میں لانا۔
    • "وہ چیزیں جن کو مرد بناتے تھے اور جو مرد و عورت دونوں کے استعمال میں آتی تھیں ان کا نام رکھنے میں مرد نے ابتدا کی ہو گی۔" ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٦٠ )
  • لفظ یا فقرے کا کسی خاص معنی میں بولا جانا۔
    • "محاوروں کے استعمال کا شوق مولوی صاحب کو بہت زیادہ تھا۔" ( ١٩٤٤ء، ایک نواب صاحب کی ڈائری، ٦١ )


مترادفات[ترمیم]

تراجم[ترمیم]

رومن[ترمیم]
انگریزی[ترمیم]
  1. application
  2. use
  3. usage
  4. utilization

ماخوذ اصطلاحات[ترمیم]

  1. [نجوم] نیرین کا مقابلہ۔ (مطلع العلوم (ترجمہ)، 367)
  2. [جنس] چاول کی قسم۔ "دوپہر میں سوا سیر پرانے استعمال کا پلاؤ۔" ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٧ )

مزید دیکھیں[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]


عربی[ترمیم]