عدل

وکی لغت سے
Jump to navigation Jump to search

عَدْل {عَدْل} (عربی)

ع د ل، عَدْل

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے 1564ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

معانی[ترمیم]

1. انصاف، داد گستری۔

"لیکن پیوند زدہ پیرہن اس عدل کی توہین کر رہے ہیں جو مسلم معاشرے کا محور ہے۔"، [1]

2. برابری، تسویہ، درمیانی راہ اختیار کرنا۔

"اسے اب ایک ایسے اشتراکی عدل کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے۔"، [2]

3. نظیر، مانند، ہمتا۔

4. اللہ تعالٰی کا ایک نام۔

؎ تو سلام و خالق و متعال و عدل و کریم

تو عزیز و باری و غفار و فتاح و علیم، [3]

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

Equity, justice, rectitude

صفت ذاتی [4]

معانی[ترمیم]

1. شاہد (گواہ) کی صفت کے طور پر مستعمل ہے، عادل، انصاف کرنے والا، گواہی دینے کے لائق۔

"آیۂ تطہیر ان کی طہارت پر شاہدِ عدل ہے۔"، [5]

مترادفات[ترمیم]

بَرابَری، مُساوات، اِنْصاف، داد، عَدالَت، اِیمان،

مرکبات[ترمیم]

عَدْلِ فارُوقی، عَدْل پَرْوَری، عَدْل جُوئی، عَدْلِ جَہانْگِیری، عَدْلِ عِمْرانی، عَدْل گَٹْکَہ، عَدْل گُسْتَر، عَدْل گُسْتَری، عَدْلِ نو شِیرَوانی، عَدْلِ نو شِیرَواں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( 1986ء، فیضان فیض، 62 )
  2. ( 1987ء، اک محشر خیال، 53 )
  3. ( 1984ء، الحمد، 84 )
  4. (واحد )
  5. ( 1887ء، نہرالمصائب،3، 556:5 )

مزید دیکھیں[ترمیم]

اسم[ترمیم]

عدل

فارسی[ترمیم]

اسم[ترمیم]

عدل

  1. عدل