حوالہ

ویکی لغت سے
Jump to navigation Jump to search

حَوالَہ {حَوا + لَہ} (عربی)

ح و ل، حَوالَہ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1893ء کو"بست سالہ عہد حکومت" میں مستعمل ملتا ہے۔

متغیّرات


حَوالا {حَوا + لا}

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

واحد غیر ندائی: حَوالے {حَوا + لے}

جمع: حَوالے {حَوا + لے}

جمع استثنائی: حوالَہ جات {حَوا + لَہ + جات}

جمع غیر ندائی: حَوالوں {حَوا + لوں (واؤ مجہول)}

معانی[ترمیم]

1. (نام کتاب یا صفحات وغیرہ سے متعلق) وہ یادداشت یا نوٹ جس کی مدد سے تفصیلات یا اصل موضوع کی طرف رجوع کیا جا سکے۔

"ان کے لیے وہ ایسے ادبی ماخذ کا مرہون منت ہے جن کے وہ حوالے نہیں دیتا۔"، [1]

2. کسی موقع و محل وغیرہ کی نشان دہی، اشارہ (کسی واقعہ وغیرہ کی طرف)۔

"وہ 90 فیصدی شادیاں جن کا حوالہ شروع مضمون میں دیا گیا رضامندی کی ہیں یا ناراضمندی کی۔" [2]

(اصطلاح) ایک عنوان سے دوسرے عنوان کی طرف رہنمائی۔

(نظام کتب خانہ)

3. نام، پتا، نشان۔

"نجاشی بادشاہ جوکہ خود عیسائی تھا، کہنے لگا، مسلمانوں، تمھارا رسول خدا کون ہے جس کا تم حوالہ دے رہے ہو، وہ کون شخص ہے جس نے تم کو یہ تعلیم دی ہے۔"، [3]

4. مثال، ذکر(بطور مثال)۔

؎ دیتے ہیں سورج کے حوالے

ظلمت شب کی گود کے پالے، [4]

5. تحویل، سپردگی، سپرد کرنا، تحویل میں دینا، حوالہ کرنا۔

6. لگان۔

"لینڈ ریونیو کو حوالہ کہا جاتا ہے۔"، [5]

7. (حیلہ کے ساتھ مستعمل)۔ ٹال مٹول۔ لیت و لعل۔

(نوراللغات، جامع اللغات)

8. { فقہ } اگر کوئی شخص اپنا قرض کسی تحریر یا ضمانت کے ذریعے سے دوسرے شخص کو منتقل کر دے تو اس تحریر یا ضمانت کو حوالہ کہا جاتا ہے۔

(اسلامی انسائیکلوپیڈیا، 823)

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

transfer; commitment; charge, trust, care, custody; possession; consignment (of any property , duty , or liability in trust); assignment (for payments); reference, allusion

مترادفات[ترمیم]

تَحْوِیل، پَتَہ، نِشان، سُپُرْد،

مرکبات[ترمیم]

حَوالَہ جات، حَوالَہ دار، حَوالَہ شُدَہ، حَوالَہ کارْڈ، حَوالَہ کُنِنْدَہ، حَوالَہ نامَہ، حَوالَۂِ نِفاسِیَّہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( 1967ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 561:3 )
  2. ( 1936ء، راشدالخیری، نالۂ زار، 42 )
  3. ( 1924ء، محمدۖ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ، 46 )
  4. ( 1979ء، زخم ہنر، 88 )
  5. ( 1940ء، جائزہ زبان اردو، 249:1 )

مزید دیکھیں[ترمیم]